گوریلا جنگ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بے قاعدہ جنگ، چھاپا مار لڑائی، میدان میں مخالف فوج کا سامنا کرنے کے بجائے چھپ کر کمیں گاہوں سے وار کرنا اور پھرتی سے فرار ہو جانا۔ "گوریلا جنگوں اور چھاپہ ماروں نے بڑے بڑوں کی نیند حرام کر دی۔"      ( ١٩٨٧ء، اردو کا افسانوی ادب، ١٤٣ )

اشتقاق

انگریزی زبان سے ماخوذ اسم 'گوریلا' کے ساتھ فارسی اسم 'لڑائی' لگانے سے مرکب 'گوریلا جنگ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٧ء کو "اردو کا افسانوی ادب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے قاعدہ جنگ، چھاپا مار لڑائی، میدان میں مخالف فوج کا سامنا کرنے کے بجائے چھپ کر کمیں گاہوں سے وار کرنا اور پھرتی سے فرار ہو جانا۔ "گوریلا جنگوں اور چھاپہ ماروں نے بڑے بڑوں کی نیند حرام کر دی۔"      ( ١٩٨٧ء، اردو کا افسانوی ادب، ١٤٣ )

جنس: مؤنث